Sabr ke Bary main Dil Afroz Waqiya | صبر کرنے کے بارے میں حکایات

Blogger template November 19, 2023 November 19, 2023
to read
words
0 comments
Description: Sabar ke Bary main Ahkam e Ilahi Aur Islami Hikayat. Sabar karny ka Ajar o Sawab. Sabar ke bary main Waqiyat or Islamic Hikayat. Best Islami Waqiyat
-A A +A

Sabr ke Bary main Dil Afroz Waqiya | صبر کرنے کے بارے میں حکایات

Sabr ke Bary main Waqiya

جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ عذاب الہی سے چھوٹ جائے ، ثواب و رحمت کو پالے اور جنتی ہو جائے اسے چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو دنیوی خواہشات سے روکے اور دنیا کے آلام و مصائب پر صبر کرے، چنانچہ فرمان الہی ہے: وَاللهُ يُحِبُّ الصَّبِرِينَ 
ترجمہ - اللہ صبر کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

حکایت

حضرت زکریا علیه السّلام جب یہود کے حملہ کی وجہ سے شہر سے باہر نکلے کہ کہیں روپوش ہو جا ئیں اور یہود ان کے پیچھے بھاگے تو آپ نے قریب ایک درخت دیکھ کر اس سے کہا: اے درخت ! مجھے اپنے اندر چھپالے۔ درخت چِِر گیا اور آپ اس میں روپوش ہو گئے ۔ جب یہود ویاں پینچے تو شیطان نے ان کو کہا کہ آری سے اس درخت کو چیر دیں۔ کہتے ہیں کہ جب آری حضرت زکریا علیہ السلام کے دماغ تک پہنچی تو آپ نے آو کی  ارشاد الہی ہوا: اے ذکریا مصائب پر پہلے صبر کیوں نہیں کیا جو اب فریاد کرتے ہو۔ اگر دوبارہ آہ منہ سے نکالی تو صابرین سے تمہارا نام خارج کر دیا جائے گا تب حضرت نے اپنے ہونٹوں کو بند کر لیا چر کر دوٹکڑے ہو گئے مگر پھر اُف تک نہ کی۔ اسلیئے ہر عقلمند کیلئے ضروری ہے کہ وہ مصائب پر صبر کرے اور حرف شکوہ زبان پر نہ لائے تا کہ دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات حاصل کر لے۔

ایک عبرت انگیز حکایت 

بنی اسرائیل میں ایک نہایت ہی فاسق و فاجر انسان تھا جو اپنی بد کرداریوں سے کبھی باز نہ آتا تھا، اہل شہر جب اس کی بدکاریوں سے عاجز آگئے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا مانگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی طرف وحی کی کہ بنی اسرائیل کے فلاں شہر میں ایک بدکار جوان رہتا ہے اسے شہر سے نکال دیجئے تا کہ اس کی بدکاریوں کی وجہ سے سارے شہر پر آگ نہ برسے، حضرت موسیٰ علیہ السّلام وہاں تشریف لے گئے اور اسے اس کی بستی سے نکال دیا، وہ قریب ہی دوسری بستی میں چلا گیا۔ پھر فرمان الہی ہوا کہ اسے اس بستی سے بھی نکال دیجئے ، جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اس کو اس بستی سے بھی نکال دیا تو اس نے ایک ایسے غار پر ٹھکانہ بنایا جہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہی کسی چرند پرند کا گزرتھا ، قرب و جوار میں نہ کہیں آبادی تھی اور نہ دور دور تک سبزے کا کوئی پتہ تھا۔ اس غار میں آکر وہ جوان بیمار ہوگیا، اس کی تیمارداری کے لئے کوئی شخص بھی اس کے آس پاس موجود نہ تھا جو اس کی خدمت کرتا، وہ ضعف و ناتوانی سے زمین پر گر پڑا اور کہنے لگا کاش  اس وقت اگر میری ماں میرے پاس موجود ہوتی تو مجھ پر شفقت کرتی اور میری اس بے کسی اور بے بسی پر روتی ، اگر میرا باپ ہوتا تو میری نگہبانی نگہداشت اور مددکرتا، اگر میری بیوی ہوتی تو میری جدائی پر روتی ، اگر میرے بچے اس وقت موجود ہوتے تو کہتے ، اے ہمارے رب ، عاجز ، گنہ گار، بدکار اور مسافر باپ کو بخش دے جسے پہلے تو شہر بدر کیا گیا اور پھر دوسری بستی سے بھی نکال دیا گیا تھا اور اب وہ غار میں بھی ہر ایک چیز سے نا امید ہو کر دنیا سے آخرت کی طرف چلا ہے اور وہ میرے جنازہ کے پیچھے روتے ہوئے چلتے ۔ پھر وہ نو جوان کہنے لگا: اے اللہ  تو نے مجھے والدین اور بیوی بچوں سے تو دور کیا ہے مگر اپنے فضل و کرم سے دور نہ کرنا تو نے میرا ادل عزیزوں کی جدائی میں جلایا ہے، اب میرے سراپا کو میرے گناہوں کے سبب جہنم کی آگ میں نہ جلانا، اسی دم اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ اس کے باپ کے ہم شکل بنا کر ، ایک حور کو اس کی ماں اور ایک حور کو اس کی بیوی کی ہم شکل بنا کر اور غلمان جنت کو اس کے بچوں کے رُوپ میں بھیج دیا، یہ سب اس کے قریب آکر بیٹھ گئے اور اس کی شدت تکلیف پر افسوس اور آہ وزاری کرنے لگے۔ جوان انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسی مسرت میں اس کا انتقال ہو گیا ، تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ فلاں غار کی طرف جاؤ، وہاں ہمارا ایک دوست مرگیا ہے، تم اس کی تکفین و تدفین کا انتظام کرو۔ حکم الہی کے بموجب حضرت موسیٰ علیہ السلام جب غار میں پہنچے تو انہوں نے وہاں اسی جوان کو مرا ہوا پایا جس کو انہوں نے پہلے شہر اور پھر بستی سے نکالا تھا، اس کے گرد حوریں تعزیت کرنے والوں کی طرح بیٹھی ہوئی تھیں۔ موسیٰ علیہ السّلام نے بارگاہ الہی میں عرض کی - اے رب العزت یہ تو وہی جوان ہے جسے میں نے تیرے حکم سے شہر اور بستی سے نکال دیا تھا۔ رب العزت نے فرمایا اے موسیٰ میں نے اس کے بہت زیادہ رونے اور عزیزوں کے فراق میں تڑپنے کی وجہ سے اس پر رحم کیا ہے اور فرشتہ کو اس کے باپ کی اور حور و غلمان کو اس کی ماں ، بیوی اور بچوں کے ہم شکل بنا کر بھیجا ہے جو غربت میں اس کی تکلیفوں پر روتے ہیں، جب یہ مرا تو اس کی بیچارگی پر زمین و آسمان والے روئے اور میں اَرحَمُ الرَّاحِمِین پھر کیوں نہ اس کے گناہوں کو معاف کرتا۔

Share this post

Blogger template

AuthorBlogger template

You may like these posts

Post a Comment

0 Comments

4324939380394343613
https://www.islamimalumat.com/