7 Duties of Prayer with full Details

Blogger Template March 28, 2023 March 28, 2023
to read
words
0 comments
Description: How many are the duties of prayer? What are the duties of prayer, read in full detail.
-A A +A

7 Duties of Prayer with full Details

7 Duties of Prayer with full Details

 نماز کے 7 فرائض

  • تکبیر تحریمہ
  • قیام - (یعنی کھڑا ہونا)
  • قراءت - یعنی قرآن پاک کی ایک آیت اپنی یاد پر زبانی پڑھنا
  • رکوع
  • سجود
  • قعدہ اخیرہ - (یعنی نماز کے آخر میں مکمل التحیات پڑھنے کی مقدار بیٹھنا)
  • خُرُوج بصنعہ - یعنی اپنے ارادے سے نماز سے باہر آنا

نمبر 1 - تکبیر تحریمہ

در حقیقت تکبیر تحریمہ (یعنی تکبیر اولی ۔ پہلی تکبیر ) شرایط نماز میں سے ہے مگر نماز کے افعال سے بالکل ملی ہوئی ہے اس لئے اسے نماز کے فرائض سے بھی شمار کیا گیا ہے
مقتدی نے تکبیر تحریمہ کا لفظ " الله " امام کے ساتھ کہا مگر " اکبر امام سے پہلے ختم کر چپکا نماز نہ ہوئی۔ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ جب امام اللہ اکبر کے آخری حصے ”بر پر پہنچے تب مقتدی اپنی تکبیر کہنا شروع کرے۔

امام رکوع میں ہو تو شامل ہونے کا طریقہ

امام کو رکوع میں پایا اور تکبیر تحریمہ کہتا ہوا رکوع میں گیا یعنی تکبیر تحریمہ اس وقت ختم ہوئی جب کہ اتنا جھک چکا تھا کہ ) ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے تک پہنچ جائے نماز نہ ہوگی ۔
امام رکوع میں ہوتب بھی پہلے بالکل سیدھے کھڑے کھڑے تکبیر تحریمہ پوری کہہ لیجئے ، اس کے بعد الله اكبر کہتے ہوئے رکوع کیلئے جھکتے ، امام کے ساتھ اگر رکوع میں معمولی سی بھی شرکت ہو گئی مثلاً امام رکوع سے اٹھنے لگا تھا مگر اُس کا ابھی اتنا جھکا و باقی تھا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنوں تک پہنچ جائیں اس کیفیت میں جو کہ رکوع کا ادنی یعنی کم ترین درجہ ہے آپ بھی بجھک کر اتنی ہی شرکت کرنے میں کامیاب ہو گئے تو رکعت مل گئی اگر آپ کے رکوع میں داخل ہونے سے قبل امام کھڑا ہوگیا تو رکعت نہ ملی جو شخص تکبیر کے تلفظ پر قادر نہ ہو مثلاً گونگا ہو یا کسی اور وجہ سے زبان بند ہوگئی ہو اس پر تلفظ لازم نہیں، دل میں ارادہ کافی ہے۔

نمبر 2 - قیام

کمی کی جانب قیام کی حد یہ ہے کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچیں اور پورا قیام یہ ہے کہ سیدھا کھڑا ہوا قیام اتنی دیر تک ہے جتنی دیر تک قرائت ہے۔ بقدر قراءت فرض قیام بھی فرض ، بقدر واجب اور بقدرسنت سنت سے یہ حکم پہلی رکعت کے سوا اور رکتوں کا ہے، رکعت اولی (یعنی پہلی رکعت) میں قیام فرض میں مقدار تکبیر تحریمہ بھی شامل ہوگی اور قیام مسنون میں مقدار منا وتعوذ و تسمیہ بھی فرض ، وتر ، عیدین اور سنت فجر میں قیام فرض ہے۔ اگر بلاعذر بھی کوئی یہ نمازیں بیٹھ کر ادا کرے گا تو نہ ہوں گی ۔

نوافل بیٹھ کر پڑھنا

کھڑے ہو کر پڑھنے کی قدرت (یعنی طاقت ) ہو جب بھی بیٹھ کر نکل پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے کہ فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے : " بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نصف (یعنی آدمی ہے۔ البتہ عمر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ یہ جو آج کل عام رواج پڑ گیا ہے کہ نفل بیٹھ کر پڑھا کرتے ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید بیٹھ کر پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں ، ایسا ہے تو اُن کا خیال غلط ہے۔
وتر کے بعد جو دو رکعت نفل پڑھتے ہیں ان کا بھی یہی تقسیم ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے۔ اور اس میں اُس حدیث سے دلیل لانا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ علیہ والہ وسلم نے وتر کے بعد بیٹھ کر نفل پڑھے۔ صحیح نہیں کہ یہ حضور (صل اللہ علیہ والہ وسلم) کے مخصوصات (یعنی صَلَّى خصوصیات) میں سے ہے۔

نمبر 3 -  قراءت

قراءت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے ادا کئے جائیں کہ ہر طرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز (بینی نمایاں ہو جائے

پڑھنے کی تعریف

آہستہ پڑھنے میں بھی یہ ضروری ہے کہ خود سن لے (دین) اگر خروف توضیح ادا کئے مگر اتنے آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی رکاوٹ مثلاً شور وغل یا تنقل-ساعت (یعنی اونچانے کا مرض ) بھی نہیں تو نماز نہ ہوئی (دین) اگر چہ خود سننا ضروری ہے مگر یہ اختیاط رہے کہ سترھی (یعنی آہستہ قرائت والی) نمازوں میں قراءت بلکہ تسبیحات وغیرہ کی آواز بھی دوسروں تک نہ پہنچے نماز کے علاوہ بھی جہاں کچھ کہنا یا پڑھنا مقرر کیا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے کہ کم از کم اتنی آواز ہو کہ خودشن سکے مثلاً طلاق دینے ، آزاد کرنے یا جانور ذبح کرنے کے لئے اللہ پاک کا نام لینے میں اتنی آواز ضروری ہے کہ خودشن سکے۔ دُرُود شریف وغیرہ اوراد پڑھتے ہوئے بھی کم از کم اتنی آواز ہونی چاہئے کہ خُود سُن سکے جبھی پڑھنا کہلائے گا ۔

نماز میں قراءت کس طرح کرے

فرضوں میں ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرے اور تراویح میں متوسط ( یعنی درمیانے ) انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آ سکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اُس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے، اس لئے کہ ترتیل سے (یعنی ٹھہر ٹھہر کر ) قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔ آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے ، يَعْلَمُونَ تَعْلَمُونَ کے سوا کسی لفظ کا پتا نہیں چلتا ، نہ تضحیح حروف ( یعنی نہ حروف کی درست ادائیگی ) ہوتی بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر تفاخر ( یعنی فخر ) ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے! حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا حرام اور سخت حرام ۔

نمبر 4 - رکوع

اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے کو پہنچ جائے یہ رکوع کا ادنی (یعنی کم ترین ) درجہ ہے اور پورا یہ کہ پیٹھ سیدھی بچھا دئے۔ فرمانِ مصطفے صلى الله علیه واله وسلم : " الله پاک بندے کی اس نماز کی طرف نظر نہیں فرماتا جس میں رکوع وجود کے درمیان پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ یعنی جو رکوع و سجود میں کم از کم ایک بار سُبحن اللہ کہنے کی مقدار نہ تھہرے۔

نمبر 5 - سُجود

فرمانِ مصطفے مصلى الله علیہ والہ وسلم ہے : ” مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں، منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ سمیٹوں ہر رکعت میں دو بار سجدہ فرض ہے

سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کا مسئلہ

پیشانی کا زمین پر جمنا سجدے کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط ، تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی ، جب بھی نہ ہوئی اس مسئلے سے بہت لوگ غافل ہیں۔ سجدے میں پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگنا فرض ہے اور ہر پاؤں کی اکثر ( مثلا تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے۔

نمبر 6 - قعدہ اخیرہ

یعنی نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا کہ پوری پوری تَشَهُد ( یعنی مکمل التَّحِيَّات ) رَسُولُهُ تک پڑھ لی جائے ، فرض ہے ۔ چار رکعت والے فرض میں چوتھی رکعت  کے بعد قعدہ نہ کیا تو جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور اگر پانچویں کا سجدہ کر لیا یا فجر میں دوسری پر نہیں بیٹھا تیسری کا سجدہ کر لیا یا مغرب میں تیسری پر نہ بیٹھا اور چوتھی کا سجدہ کر لیا ان سب صورتوں میں فرض باطل ہو گئے۔ مغرب کے علاوہ اور نمازوں میں ایک رکعت مزید ملالے۔

نمبر 7 - خروج بصنعہ

یعنی قعدہ آخیرہ کے بعد قصد اسلام پھیر کر نماز سے فارغ ہونا۔“ سلام کے علاوہ کوئی اور کام قصدا کرے گا تو نماز دہرانا ( یعنی دو بارو ادا کرنا ) واجب ہوگا ، بلا ارادہ کوئی ایسا کام پایا گیا جو نماز میں نہیں کیا جاسکتا تو نماز باطل ہوگی، سرے سے پڑھنا فرض رہے گا۔ 

Share this post

Blogger Template

AuthorBlogger Template

Hellow We are Stylo Templates. We Offers You To Create Custom Blogger Template Design For You.

You may like these posts

Post a Comment

0 Comments

4324939380394343613
https://www.islamimalumat.com/